کپاس کی بوائی مکمل گائیڈ
لاہور ڈویژن — سیزن 2026
تعارف
کپاس لاہور ڈویژن کی سب سے اہم نقد فصل ہے۔ قصور کے چونیاں اور پتوکی علاقے کپاس کی کاشت کے لیے مشہور ہیں۔ صحیح وقت پر بوائی اور درست قسم کا انتخاب پیداوار کو دوگنا کر سکتا ہے۔
کپاس کی بوائی کا بہترین وقت 20 اپریل سے 20 مئی ہے۔ اس کے بعد بوائی کرنے سے پیداوار میں 20 سے 30 فیصد کمی آتی ہے۔
بوائی کے اہم اعداد و شمار
بہترین آغاز
آخری تاریخ
(delinted)
(انچ)
کم سے کم درجہ
(دن)
بہترین اقسام — لاہور ڈویژن
قصور کے چونیاں اور پتوکی میں کپاس BH-178 سب سے زیادہ کاشت ہوتی ہے۔ لیکن علاقے کے مطابق دوسری اقسام بھی موزوں ہیں:
BH-178
- پیداوار: 40 سے 45 من فی ایکڑ
- ریشے کی لمبائی: 28 سے 30 mm
- گرمی برداشت: بہترین
- موزوں: چونیاں، پتوکی، قصور
- CLCuV وائرس مزاحمت: اچھی
MNH-886
- پیداوار: 45 سے 50 من فی ایکڑ
- ریشے کی لمبائی: 29 سے 31 mm
- گرمی برداشت: اچھی
- موزوں: شیخوپورہ، سفدرآباد
- پانی کی ضرورت: درمیانی
CIM-598
- پیداوار: 35 سے 40 من فی ایکڑ
- ریشے کی لمبائی: 27 سے 29 mm
- خشکی برداشت: بہترین
- موزوں: ننکانہ صاحب، شاہکوٹ
- پانی کی ضرورت: کم
NIAB-878
- پیداوار: 42 سے 48 من فی ایکڑ
- ریشے کی لمبائی: 30 سے 32 mm
- سفید مکھی مزاحمت: بہتر
- موزوں: تمام تحصیلیں
- بیج دستیابی: محدود
اقسام کا موازنہ
| قسم | پیداوار (من/ایکڑ) | ریشہ (mm) | پانی کی ضرورت | CLCuV مزاحمت |
|---|---|---|---|---|
| BH-178 | 40 تا 45 | 28 تا 30 | درمیانی | اچھی |
| MNH-886 | 45 تا 50 | 29 تا 31 | درمیانی | درمیانی |
| CIM-598 | 35 تا 40 | 27 تا 29 | کم | بہترین |
| NIAB-878 | 42 تا 48 | 30 تا 32 | درمیانی | بہتر |
زمین کی تیاری
گہرا ہل — مارچ میں
مارچ میں ایک بار گہرا ہل (Subsoiling) چلائیں — 12 سے 18 انچ گہرا۔ یہ صرف ہر 3 سال میں ایک بار کرنا ہے۔ زمین کی سخت تہہ ٹوٹتی ہے اور جڑیں گہری جاتی ہیں۔
روٹاویٹر — اپریل کے شروع میں
بوائی سے 2 ہفتے پہلے روٹاویٹر چلائیں۔ مٹی باریک اور بھربھری ہو — کپاس کا بیج چھوٹا ہے، سخت مٹی میں انکرن نہیں ہوتا۔
کھاد بیس ڈوز — بوائی سے پہلے
DAP 1 بوری فی ایکڑ اور SOP آدھی بوری فی ایکڑ — روٹاویٹر سے پہلے ڈالیں تاکہ مٹی میں اچھی طرح مل جائے۔
ہموار کرنا اور وتر دیکھنا
زمین ہموار کریں۔ بوائی وتر میں کریں — نہ بہت خشک نہ بہت گیلی۔ مٹھی بھر مٹی مٹھی میں بند کریں، چھوڑنے پر ٹوٹ جائے تو وتر ٹھیک ہے۔
بیج کا علاج — بوائی سے پہلے
بیج کا معائنہ
بیج خریدتے وقت پیکٹ پر سرٹیفیکیشن نمبر چیک کریں۔ پھٹا ہوا یا پرانا پیکٹ نہ لیں۔ بیج کا رنگ یکساں ہونا چاہیے۔
پھپھوندی کا علاج
Imidacloprid 70 WS — 7 گرام فی کلو بیج۔ یا Thiamethoxam 70 WS — 3 گرام فی کلو بیج۔ بیج کو تھیلے میں ڈال کر ہلائیں — دوائی یکساں لگ جائے گی۔
خشک کرنا
علاج کے بعد بیج کو سایہ میں 2 سے 3 گھنٹے خشک کریں۔ دھوپ میں نہ رکھیں — دوائی اڑ جائے گی۔ اسی دن بوائی کریں۔
بوائی کا طریقہ
ریج پر بوائی (Ridge Sowing) — بہترین طریقہ
- 30 انچ فاصلے پر ریج بنائیں۔ ریج کی اونچائی 6 انچ رکھیں۔
- ریج کے اوپر بیج ڈالیں — بارش یا زیادہ پانی سے بیج محفوظ رہے گا۔
- فی ریج میں ایک جگہ 2 سے 3 بیج ڈالیں، گہرائی 1.5 انچ۔
- انکرن کے بعد ایک صحت مند پودا رکھیں، باقی نکال دیں۔
فلیٹ بوائی — صرف خشک علاقوں میں
- ننکانہ صاحب اور شاہکوٹ میں جہاں پانی کم ہو وہاں فلیٹ بوائی کریں۔
- 30×18 انچ فاصلہ — قطاریں 30 انچ، پودے 18 انچ۔
- بوائی کے فوری بعد ہلکا پانی ضروری ہے۔
بوائی کا مرحلہ وار شیڈول
مارچ — زمین کی ابتدائی تیاری
گہرا ہل چلائیں۔ پچھلی فصل کی باقیات مٹی میں ملائیں — جلائیں نہیں۔ اگر جپسم ڈالنا ہو تو ابھی ڈالیں، 2 بوری فی ایکڑ۔
اپریل پہلا ہفتہ — بیج اور کھاد کا انتظام
سرٹیفائیڈ بیج خریدیں۔ DAP اور SOP بازار سے لیں۔ ریج بنائیں اور کھاد بیس ڈوز ڈالیں۔
20 اپریل تا 10 مئی — بوائی
بیج کا علاج کریں اور اسی دن بوائی کریں۔ وتر دیکھ کر بوائی کریں۔ بوائی کے بعد ہلکا پانی لگائیں۔
انکرن کے بعد — پتلائی (Thinning)
انکرن کے 10 سے 15 دن بعد ایک جگہ ایک پودا رکھیں۔ کمزور اور بیمار پودے نکال دیں۔ خالی جگہ پر دوبارہ بیج لگائیں۔
30 دن بعد — پہلی کھاد اور آبپاشی
یوریا 1 بوری فی ایکڑ — پانی لگانے سے پہلے ڈالیں۔ پہلی گوڈائی کریں — جڑی بوٹیاں نکالیں۔ پودے 12 انچ کے ہو جائیں تو کیڑوں کی نگرانی شروع کریں۔
ستمبر تا نومبر — چنائی
پھٹیاں پکنے پر فوری چنائی کریں — دیر کرنے سے ریشہ خراب ہوتا ہے۔ چنائی صبح سویرے کریں — دوپہر کی گرمی میں ریشہ ٹوٹتا ہے۔
آبپاشی کا انتظام
کپاس کو کل 8 سے 10 آبپاشیاں چاہیے۔ غلط وقت پر پانی دینے سے پیداوار کم ہوتی ہے:
- بوائی کے بعد فوری ہلکا پانی — انکرن کے لیے نمی ضروری ہے۔
- پہلا پانی: بوائی کے 20 سے 25 دن بعد۔ دوسرا: 15 دن بعد۔
- پھول آنے پر پانی کبھی بند نہ کریں — اس وقت پانی کی کمی سے پھٹیاں گر جاتی ہیں۔
- مون سون کے دوران: بارش کا حساب لگائیں — زیادہ پانی سے جڑ سڑن ہوتی ہے۔
- پانی کھڑا نہ ہونے دیں — 24 گھنٹے سے زیادہ پانی کھڑا رہا تو فصل کو نقصان۔
- آخری پانی: چنائی سے 3 ہفتے پہلے بند کریں — ریشہ مضبوط ہوگا۔
کھاد کا شیڈول
| وقت | کھاد | مقدار (فی ایکڑ) | طریقہ |
|---|---|---|---|
| بوائی سے پہلے | DAP | 1 بوری | مٹی میں ملائیں |
| بوائی سے پہلے | SOP | آدھی بوری | مٹی میں ملائیں |
| 30 دن بعد | یوریا | 1 بوری | پانی سے پہلے |
| 60 دن بعد | یوریا | آدھی بوری | پانی سے پہلے |
| پھول آنے پر | Boron | 500 گرام | فولیئر اسپرے |
کیڑے اور بیماریاں
سفید مکھی (Whitefly)
- پہچان: پتوں کے نیچے سفید چھوٹے کیڑے، پتے پیلے پڑ جاتے ہیں۔
- نقصان: یہ CLCuV وائرس پھیلاتی ہے — پوری فصل تباہ ہو سکتی ہے۔
- علاج: Spiromesifen 240 SC — 250 ml فی ایکڑ۔ یا Pyriproxyfen 10 EC — 500 ml فی ایکڑ۔
- بچاؤ: بیج کا علاج Imidacloprid سے کریں، پیلے چپکنے والے کارڈ لگائیں۔
گلابی سنڈی (Pink Bollworm)
- پہچان: پھٹیوں کے اندر گلابی رنگ کی سنڈی — باہر سے نقصان نہیں دکھتا۔
- نقصان: پھٹی اندر سے خالی ہو جاتی ہے — پیداوار 40 فیصد تک کم۔
- علاج: Emamectin Benzoate 1.9 EC — 500 ml فی ایکڑ۔
- بچاؤ: Bt قسم استعمال کریں — گلابی سنڈی مزاحم ہوتی ہے۔
CLCuV وائرس (Cotton Leaf Curl)
- پہچان: پتے مڑ جاتے ہیں، نسیں موٹی ہو جاتی ہیں، پودا بڑھنا بند ہو جاتا ہے۔
- علاج نہیں: ایک بار وائرس لگ جائے تو علاج ممکن نہیں — متاثرہ پودے اکھاڑ دیں۔
- بچاؤ: سفید مکھی کنٹرول کریں — یہی وائرس پھیلاتی ہے۔
- مزاحم قسم: BH-178 اور CIM-598 میں وائرس مزاحمت نسبتاً بہتر ہے۔
ضلع وار صورتحال
لاہور
- رائیونڈ، واہگہ: گنا زیادہ
- کپاس کا رقبہ محدود
- سبزیاں زیادہ منافع بخش
- موزوں قسم: MNH-886
قصور
- چونیاں، پتوکی: مرکزی علاقہ
- BH-178 سب سے مناسب
- ریتلی مٹی — آبپاشی زیادہ
- سفید مکھی خطرہ زیادہ
شیخوپورہ
- سفدرآباد: کپاس کے لیے مناسب
- MNH-886 بہتر پیداوار
- مٹی SOC بہتر — کھاد کم
- دھان کے ساتھ فصل بدل
ننکانہ صاحب
- پانی کم — CIM-598 موزوں
- شاہکوٹ: کپاس کے لیے ٹھیک
- سانگلہ ہل: ماش بہتر ہے
- pH زیادہ — جپسم پہلے
تحصیل وار خاص مشورے
قصور — چونیاں، پتوکی، کوٹ رادھا کشن، پھول نگر
- چونیاں اور پتوکی: BH-178 کا سرٹیفائیڈ بیج — کوٹ رادھا کشن زرعی دفتر سے لیں۔
- چونیاں: ریتلی مٹی میں پانی جلدی نکلتا ہے — 12 سے 14 آبپاشیاں ضروری ہیں۔
- پتوکی: ڈرپ اریگیشن لگائیں — آبی میز گہری ہے، پانی بچانا ضروری ہے۔
- پھول نگر: سفید مکھی کا خطرہ سب سے زیادہ — بیج علاج لازمی کریں۔
شیخوپورہ — سفدرآباد، شرقپور، فیروزوالہ، مریدکے
- سفدرآباد: MNH-886 لگائیں — مٹی کی صحت اچھی ہے، پیداوار زیادہ ملے گی۔
- فیروزوالہ اور مریدکے: دھان کے علاقے — کپاس کے لیے رقبہ محدود کریں۔
- شرقپور: بوائی کا وقت 1 مئی سے 15 مئی — دیر سے نہ کریں۔
ننکانہ صاحب — شاہکوٹ، سانگلہ ہل، وارثپورہ
- شاہکوٹ: CIM-598 موزوں — پانی کم لگتا ہے، خشکی برداشت بہتر۔
- ننکانہ صاحب: pH 8.0 — بوائی سے پہلے جپسم 2 بوری فی ایکڑ ضروری ہے۔
- سانگلہ ہل اور وارثپورہ: پانی کی کمی کی وجہ سے ماش یا مونگ زیادہ مناسب ہے۔
لاہور — رائیونڈ، واہگہ، سہالہ
- رائیونڈ اور واہگہ: گنے کے بعد خالی زمین پر کپاس لگا سکتے ہیں — MNH-886 ٹھیک ہے۔
- شہری علاقوں کے قریب: سبزیاں زیادہ منافع بخش ہیں — کپاس کی جگہ سبزی سوچیں۔
عام غلطیاں — جو نہ کریں
- 20 مئی کے بعد بوائی نہ کریں — پیداوار 25 سے 30 فیصد کم ہوگی۔
- بیج علاج کے بغیر نہ بوئیں — پہلے 30 دن میں سفید مکھی تباہی مچا سکتی ہے۔
- نقلی یا غیر سرٹیفائیڈ بیج استعمال نہ کریں — CLCuV وائرس کا خطرہ 3 گنا بڑھ جاتا ہے۔
- پودے بہت گھنے نہ لگائیں — 22,000 سے زیادہ پودے فی ایکڑ نقصاندہ ہیں۔
- پھول آنے پر پانی بند نہ کریں — یہ سب سے نازک مرحلہ ہے۔
- دوائیاں بدل بدل کر استعمال کریں — ایک ہی دوائی بار بار ڈالنے سے کیڑے مزاحم ہو جاتے ہیں۔
- فصل کی باقیات نہ جلائیں — مفید کیڑے اور مٹی کے جاندار مر جاتے ہیں۔
تاریخی موازنہ — 30 سال کا ڈیٹا
CHIRPS 1995-2025 ڈیٹا کے مطابق کپاس کی بوائی کے دوران موسمی رجحانات:
اپنی تحصیل کا موسم اور فصل کیلنڈر دیکھیں
لاہور ڈویژن کی 24 تحصیلوں کا 10 دن کا موسمی حال، آبپاشی مشورہ، کیڑوں کا الرٹ، اور کپاس کا مکمل فصل کیلنڈر — سب ایک جگہ۔
climatrix.org پر جائیں
